نئی دہلی، 7 ؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )دہلی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بچوں کے بیانات درج کرواتے وقت نچلی عدالتوں کے ججوں کو حساس رہنا چاہیے ا ور سچائی کو سامنے لانے کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔جسٹس ایس پی گرگ نے ایک شخص کی درخواست کو منسوخ کرتے ہوئے یہ ہدایت دی۔درخواست گزار نے نچلی عدالت کے گزشتہ سال آئے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں اسے پانچ سالہ بچی کو جنسی استحصال کے الزام میں بچوں کے جنسی جرائم سے حفاظت قانون (پا سکو )کے تحت پانچ سال کی جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔عدالت نے کہاکہ پریزائڈنگ افسر سے امید کی جاتی ہے کہ کم عمر کے بچوں سے پوچھ گچھ کے دوران ان حساس رہنا چاہیے ۔عدالت خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی بلکہ سچائی کو سامنے لانے کے مقصد سے متعلقہ حقائق کو اجاگر کرنے کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔عدالت نے کہا کہ 42سالہ شخص کو یہ سزامناسب وجوہات کی بنیاد پر دی گئی ہے اور اس نے اپنی بیٹی کی طرح کی بچی کے ساتھ عصمت دری کی جو خوفناک ہے۔جسٹس نے اپنے فیصلہ میں کہاکہ الزام بالکل واضح، یقینی اور صاف ہے ۔ہم تقریبا پانچ سال کے بچے سے اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟ صورتحال اور حقائق کو لے کر اس کے جو بھی بیانات ہیں وہ غیر متنازعہ ہیں۔پولیس کے مطابق اس شخص نے اپریل 2014میں بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ درخواست گزار نے بچے کی معصومیت کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے اور پڑوسی ہونے کے ناطے بچی کے اہل خانہ کے اعتماد کو توڑا ہے۔اس کی درخواست میں دم نہیں ہے اور اسے مسترد کیا جاتا ہے۔